سکھ فار جسٹس (SFJ) نے الزام عائد کیا ہے کہ کینیڈا میں تعینات ایک بھارتی سفارتکار نے خالصتان ریفرنڈم کے منتظم اندرجیت سنگھ گوسل کو نشانہ بنانے کے لیے مبینہ طور پر کرائے کے قاتل سے رابطہ کیا۔ تنظیم کے مطابق اس معاملے سے متعلق معلومات کینیڈین انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کی گئی ہیں۔
امریکا میں قائم اس تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارتی سفارتکار نے گوسل کو قتل کرنے کے لیے ایک ہٹ مین کو 50 ہزار امریکی ڈالر نقد پیش کرنے کی کوشش کی۔ ایس ایف جے نے دعویٰ کیا کہ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) نے ممکنہ خطرات کے باعث گوسل کو ویٹنس پروٹیکشن کی پیشکش کی ہے، تاہم کینیڈین حکام نے ابھی تک ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل نہیں دیا۔
تنظیم کے جنرل کونسل گرپت وانت سنگھ پنوں نے کہا کہ یہ معلومات اس لیے منظرِ عام پر لائی گئی ہیں تاکہ “کینیڈا میں ایک اور پرو-خالصتان سکھ کے قتل” کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق مختلف کینیڈین سکیورٹی ایجنسیاں، بشمول RCMP، اس مبینہ سازش سے متعلق انٹیلی جنس کا جائزہ لے چکی ہیں اور اس حوالے سے تفصیلات اعلیٰ سطحی حکومتی دفاتر تک پہنچائی گئی ہیں، جن میں وزیر اعظم مارک کارنی، وزیر خارجہ انیتا آنند اور وزیرِ پبلک سیفٹی کے دفاتر شامل ہیں۔
پنوں نے الزام عائد کیا کہ یہ صورتحال بھارت پر دباؤ میں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے بقول گوسل کے خلاف مبینہ منصوبہ وزیر اعظم کارنی کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بغیر احتساب کا تقاضا کیے تجارتی مذاکرات کے آغاز کا نتیجہ ہے۔
ایس ایف جے نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ کینیڈا میں بھارتی ہائی کمشنر دینیش پٹنائک کی عوامی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں۔
