امریکی قومی سلامتی کیلئے خطرہ بننے والے افراد کو ملک بدر کیا جائے گا، وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس نے غزہ کی’’بورڈ آف پیس‘‘ کے تحت دو نئی کمیٹیوں کی ذمہ داریاں کا اعلان کر دیا

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق کرنے والے غیر ملکی افراد کو ملک بدر کیا جائے گا۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں ایک افغان شہری نے دہشتگرد حملہ کیا، جس کی درست جانچ پرکھ میں بائیڈن انتظامیہ ناکام رہی۔

ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ افغانستان سے آنے والی درخواستوں کا ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں بڑے پیمانے پر ملک سے خطرناک افراد کو نکالنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آکر ملکی سرحدوں کا تحفظ یقینی بنایا اور افغانستان سمیت 19 ممالک پر سفری پابندیاں عائد کیں۔ ان کے بقول ان اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی امیگریشن میں واضح اور تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی طبی حالت مکمل طور پر ٹھیک ہے اور ایم آر آئی رپورٹ نارمل آئی ہے۔ ترجمان کے مطابق پیٹ ہیگسیتھ وینزویلا میں ہونے والے حملوں سے متعلق کانگریس کے اراکین کو پہلے ہی بریفنگ دے چکے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے