روس نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی میں براہِ راست شمولیت سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ اس کی نہیں ہے، جبکہ ماسکو کی جانب سے ایران کا افزودہ یورینیم لینے کی پیشکش بھی امریکا نے مسترد کر دی۔
کریملن کے ترجمان Dmitry Peskov نے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کا حصہ نہیں اور نہ ہی اس تنازع کا فریق ہے۔ ان کے بقول، “یہ ہماری جنگ نہیں ہے”، اور روس کسی بھی عسکری مداخلت میں شامل نہیں ہو رہا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ روس نے ایران سے افزودہ یورینیم وصول کرنے کی پیشکش کی تھی، تاہم امریکا نے اس تجویز کی مخالفت کر دی۔ ان کے مطابق یہ کوئی نیا خیال نہیں بلکہ Vladimir Putin پہلے بھی اس آپشن کو ایک ممکنہ حل کے طور پر پیش کر چکے ہیں، جس کے تحت روس اپنی سرزمین پر ایرانی یورینیم رکھ سکتا تھا تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔
پیسکوف کے مطابق ایران اس تجویز پر آمادہ تھا، تاہم امریکا کے اپنے مطالبات اور مفادات اس راہ میں رکاوٹ بنے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین کے مفادات کو یکجا کیا جائے تاکہ قابلِ عمل حل سامنے آ سکے۔
دوسری جانب ایرانی مؤقف بھی واضح ہے۔ تہران نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ یورینیم افزودگی اس کا ناقابلِ تردید حق ہے، البتہ اس کی سطح پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق پرامن ایٹمی توانائی کا حصول کسی دباؤ یا جنگ کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا۔
ذرائع کے مطابق ایران کے پاس موجود اعلیٰ افزودہ یورینیم کی مقدار تقریباً 440 کلوگرام کے قریب ہے، جس کا مستقبل تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ مذاکرات کے دوران امریکا نے ایران سے یورینیم افزودگی 20 سال کے لیے معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ ایران صرف 5 سال کے لیے اس پر آمادہ دکھائی دیا۔ اس بنیادی اختلاف کے باعث مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، تاہم توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہو سکتا ہے۔
