اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ ایران اور لبنان میں جنگی کارروائیوں کو جاری رکھنے سے متعلق نئے منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے اور ایرانی اہداف پہلے سے تیار ہیں، جن پر کسی بھی وقت بھرپور حملہ کیا جا سکتا ہے۔
جنوبی لبنان کے مغربی سیکٹر میں 162 ویں ڈویژن کی افواج کے معائنے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز ایران اور لبنان دونوں محاذوں پر جنگ جاری رکھنے کے منصوبوں کی توثیق کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج مکمل طور پر ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی فوری عسکری کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ایال زامیر نے کہا کہ اسرائیل ایران کو جوہری معاملے، آبنائے ہرمز اور دیگر اسٹریٹجک معاملات میں پیش رفت کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اہداف کی فہرست مکمل طور پر تیار ہے اور حالات کے مطابق فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
لبنان کے محاذ پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی چیف آف اسٹاف نے کہا کہ اسرائیلی افواج حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کو مزید وسعت دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق معرکے کے آغاز سے اب تک حزب اللہ کے 1700 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جسے انہوں نے تنظیم کے لیے “سنگین نقصان” قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے شہر بنت جبیل میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے اور دریائے لیطانی تک کے جنوبی علاقے کو حزب اللہ کے لیے “آپریشنل زون” بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں اور عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی یا اضافے کے امکانات پر توجہ مرکوز ہے۔
