کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا Pope Leo نے ایک بار پھر Iran پر حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلے کا پُرامن حل تلاش کریں۔
عالمی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ صرف مذاکرات کی طرف واپسی سے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق ایرانی شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں اور یہ معاملہ محض بین الاقوامی قانون تک محدود نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تشدد اور جنگ کو روکیں اور امن کے راستے کو اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے، نہ کہ ایسے فیصلوں پر جہاں ہتھیاروں کی تیاری اور مہلک اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
پوپ لیو نے خبردار کیا کہ غیر منصفانہ جنگ مزید شدت اختیار کر رہی ہے اور اس سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوگا، جبکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال عالمی معیشت، توانائی بحران اور نفرت کو بھی بڑھا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران میں مبینہ امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے مناب اسکول کے بچوں کے والدین نے پوپ لیو کو خط لکھ کر ان کے مؤقف کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ خط میں کہا گیا کہ ان کا “ہتھیار رکھ دیے جائیں” کا پیغام ضرور سنا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسکول پر حملہ 28 فروری کو کیا گیا تھا، جس میں بچیوں سمیت 160 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ White House کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ معذرت سامنے نہیں آئی۔
