امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، تاہم وہ جلد بازی میں کوئی “بری ڈیل” نہیں کریں گے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ معاہدہ ہونے تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی، جبکہ انہوں نے بتایا کہ J. D. Vance، Steve Witkoff اور Jared Kushner مذاکرات کے لیے Islamabad روانہ ہو رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدہ Iran Nuclear Deal 2015 سے بہتر ہوگا اور دنیا اس پر فخر کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بدھ تک ڈیل نہ ہوئی تو جنگ کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے میڈیا میں آنے والی ان خبروں کو مسترد کیا کہ وہ کسی دباؤ میں آ کر معاہدہ کر رہے ہیں، اور کہا کہ امریکا مضبوط پوزیشن میں ہے۔
صدر ٹرمپ نے داخلی سیاست پر بھی بات کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ امریکی فوج اور انتظامیہ کی کامیابیوں کو کم ظاہر کر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک حالیہ آپریشن میں ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیا، اور ان کی بحالی ایک طویل اور مشکل عمل ہوگا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں ٹرمپ نے بعض امریکی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوجی کامیابیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر امن اور سلامتی کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔
