مذاکرات کی میز کو “ہتھیار ڈالنے کی میز” میں تبدیل کرنے کی کوشش قابل قبول نہیں، قالیباف

Seven million people are ready for voluntary defense in the event of a US ground attack, Iranian Speaker Baqir Qalibat

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے واضح کیا ہے کہ Iran دھمکیوں اور دباؤ کے ساتھ مذاکرات کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ Donald Trump مذاکرات کی میز کو “ہتھیار ڈالنے کی میز” میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو قابل قبول نہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ آبنائے ہرمز میں اقدامات اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ذریعے امریکا خود فریبی کا شکار ہے اور نئی جنگ کے لیے جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔

قالیباف کے مطابق دباؤ کے ذریعے مذاکرات سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا، اور ایران ایسی کسی پیشکش کو تسلیم نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے میدان جنگ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ Saeed Khatibzadeh نے کہا کہ امریکا کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنے “حد سے بڑھے مطالبات” ترک کرے اور ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کرے۔

انہوں نے زور دیا کہ امریکا جنگ کا راستہ آزما چکا ہے اور اس بحران کا واحد حل سفارتکاری میں ہے۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmaeil Baghaei نے بھی امریکا پر عدم سنجیدگی کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو ایران فیصلہ کن ردعمل دے گا۔

ترجمان کے مطابق امریکی تجاویز غیر سنجیدہ اور مطالبات غیر حقیقی ہیں، جبکہ ایران سے جوہری مواد کی بیرونِ ملک منتقلی کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے