ٹرمپ کی امیگریشن مہم کے مرکزی عہدیدار مائیک بینکس مستعفی، سرحدی پالیسی پر نئی بحث چھڑ گئی

Trump's immigration campaign chief Mike Banks resigns, sparking fresh debate over border policy

امریکہ میں جاری امیگریشن مہم کے مرکزی عہدیدار مائیک بینکس نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں اور سرحدی کریک ڈاؤن پر نئی سیاسی بحث شروع ہوگئی ہے۔

مائیک بینکس، جنہوں نے امریکی جنوبی سرحد پر ٹرمپ انتظامیہ کی جارحانہ امیگریشن حکمت عملی کی قیادت کی، نے اپنے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے “انتہائی افراتفری والی سرحد کو تاریخ کی محفوظ ترین سرحد میں تبدیل کر دیا”۔

U.S. Customs and Border Protection کے کمشنر Rodney Scott نے بینکس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سرحدی تحفظ کے ایک انتہائی مشکل دور میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹس شائع ہوئی تھیں جن میں متعدد موجودہ اور سابق سرحدی اہلکاروں نے بینکس پر کولمبیا اور تھائی لینڈ کے دوروں کے دوران جسم فروشی سے متعلق الزامات عائد کیے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ان الزامات کی ماضی میں دو مرتبہ تحقیقات بھی کی گئیں، تاہم امریکی حکام نے حالیہ دنوں میں اس معاملے کو “بند” قرار دیا تھا۔

Michael Banks نے 2025 کے آغاز میں امریکی بارڈر پٹرول کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا اور وہ جلد ہی ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کا مرکزی چہرہ بن گئے تھے۔

ان کی نگرانی میں غیر قانونی سرحدی کراسنگ کے خلاف قانونی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا جبکہ Immigration and Customs Enforcement (ICE) اور بارڈر پٹرول کے درمیان مربوط کارروائیوں کو بھی وسعت دی گئی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے