بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی،سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نےخلع اور گھریلو تنازعات سے متعلق ایک اہم اور تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نےتفصیلی فیصلہ جاری کیا،جسٹس شاہد بلال حسن نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نےواضح کیاکہ اگربیوی نےظلم کی بنیاد پرکیس دائرکیا ہو تو اسےزبردستی خلع میں تبدیل کرنا اس کےمالی اورقانونی حقوق کومتاثرکر سکتا ہے،ایسےمعاملات میں بیوی کو یہ اختیار حاصل ہونا چاہیےکہ وہ چاہے تو ظلم کا کیس جاری رکھے یا خلع قبول کرے۔

فیصلے میں مزیدکہاگیا ہےکہ اگر شادی عملی طور پر ختم ہو چکی ہو لیکن ظلم ثابت نہ ہو، تب بھی عورت کو انتخاب کا حق دیا جانا ضروری ہے،عدالت کسی رشتے کو زبردستی بحال نہیں کرا سکتی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیاکہ فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار”غالب امکان” جبکہ فوجداری مقدمات میں "شک سےبالاتر”ہوگا،عدالتوں کوگھریلو معاملات میں ناممکن ثبوت جیسے عینی شاہد یا ایف آئی  آرکا تقاضا نہیں کرنا چاہیے،فیملی کورٹس کو فوجداری معیارثبوت سول مقدمات میں لاگو کرنے سے گریز کی ہدایت کی گئی۔

سپریم کورٹ نےزیرِسماعت کیس میں نچلی عدالتوں کےفیصلوں کوجزوی طور پر برقرار رکھتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا ہے،عدالت نے ہدایت کی ہےکہ فیملی کورٹ 30 دن کے اندر کیس نمٹائے اور بیوی کا حتمی مؤقف ریکارڈ کر کے اس کی رضامندی واضح کرے۔

فیصلے میں کہاگیا ہے کہ اگر بیوی خلع قبول کرتی ہے تو قانونی شرائط کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا، اور اگر وہ ظلم کے دعوے پر قائم رہتی ہے تو کیس اسی بنیاد پر نمٹایا جائے گا۔

کیس میں شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی جبکہ 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کیا گیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے