میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ رواں سال عالمی یومِ ماحولیات کا موضوع بلوچستان جیسے خشک سالی سے متاثرہ صوبے کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ صوبے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، ماحول دوست پالیسیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ زیارت کے عالمی شہرت یافتہ جونیپر جنگلات، قومی پارکس اور نایاب جنگلی حیات صوبے کا قیمتی قدرتی سرمایہ ہیں، جن کا تحفظ ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے خبردار کیا کہ جنگلات کی کٹائی، غیر قانونی شکار، پلاسٹک آلودگی اور پانی کی قلت ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین خطرات ہیں، جبکہ ان چیلنجز سے بروقت نمٹنے میں ناکامی زراعت، معیشت اور صحت عامہ پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گرین بلوچستان پروگرام کے تحت شجرکاری مہم کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ زیارت کے جونیپر جنگلات کے تحفظ اور بحالی کے لیے خصوصی منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے، جنگلی حیات کے تحفظ، آبی منصوبوں اور ڈیمز کی تعمیر پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ پلاسٹک بیگز اور سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، ماحولیات کا تحفظ عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا ہر شہری کو ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ہوگا۔
میر سرفراز بگٹی نے اہل بلوچستان سے اپیل کی کہ ہر گھر میں کم از کم ایک درخت لگایا جائے اور اس کی نگہداشت کو اپنی ذمہ داری بنایا جائے، پانی بلوچستان کا قیمتی قومی اثاثہ ہے اور اس کے ضیاع کی روک تھام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ صوبائی حکومت سرسبز، صاف ستھرے اور ماحول دوست بلوچستان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
