آزاد کشمیر، جی بی میں سست انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز میں خلل کی وجوہات سامنے آگئیں

ایس سی او دستاویز کے مطابق گزشتہ سال بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر تاحال مکمل بحال نہ ہو سکا، بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہ ہونے والے مواصلاتی نیٹ ورکس عارضی انتظامات کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔

دستاویز کے مطابق متاثرہ علاقوں میں متعدد مواصلاتی نظام کم استعداد پر کام کر رہے ہیں جس سے نیٹ ورک پر دباؤ بڑھ گیا ہے، سیلابی تباہ کاریوں کے باعث آپٹیکل فائبر، پولز اور دیگر مواصلاتی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔

ایس سی او نے متاثرہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 1018.4 ملین روپے کے اضافی فنڈز طلب کر لیے۔

ایس سی او دستاویز کے مطابق جولائی اور اگست 2025 کے دوران آزد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارشوں اور سیلاب سے مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا، مواصلاتی نیٹ ورکس کی تباہی سے متاثرہ علاقوں میں رابطہ خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔

دستاویز کے مطابق آپٹیکل فائبر اور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کو نقصان کا تخمینہ 464.4 ملین روپے لگایا گیا ہے، بارشوں اور سیلاب کے باعث 40 کلومیٹر زیر زمین اور 60 کلومیٹر فضائی آپٹیکل فائبر کیبل متاثر ہوئی۔

ایس سی او دستاویز کے مطابق نقصانات میں 1000 پولز، متعلقہ آلات اور 54 کلومیٹر کاپر کیبل کی تباہی بھی شامل ہے، باغ۔ریڑہ، ہنزہ۔سوست، کوٹلی۔راولاکوٹ اور اوچھڑ نالہ۔داسو ڈیم کے فائبر لنکس کو شدید نقصان پہنچا۔

دستاویز کے مطابق ایس سی او کی 25 ٹیلی کام سائٹس پر قائم سول ورکس انفراسٹرکچر سیلابی تباہی کی زد میں آیا، سول ورکس اور ٹیلی کام سائٹس کے نقصانات کی مالیت 200 ملین ہے، 15 شمسی توانائی کے نظام اور ان سے متعلقہ سول ورکس بھی تباہ ہو گئے۔

ایس سی او دستاویز کے مطابق قدرتی آفات کے دوران 25 ارتھنگ پوائنٹس کو بھی نقصان پہنچا جس سے نظام کی کارکردگی متاثر ہوئی، ہنگامی بنیادوں پر دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے عارضی طور پر مواصلاتی خدمات بحال کی گئیں۔

دستاویز کے مطابق عارضی بحالی کے اقدامات مستقل حل نہیں اور بار بار خرابیوں کا شکار ہو سکتے ہیں، متاثرہ علاقوں میں کئی مواصلاتی نظام اب بھی کم استعداد پر چل رہے ہیں جس سے سروسز میں تعطل اور رش بڑھ رہا ہے۔

ایس سی او نے مستقل بحالی اور بڑے پیمانے پر نقصانات کے ازالے کے لیے وزارت آئی ٹی سے فوری طور پر 1018.4 ملین روپے جاری کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے