رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے کل جاری کیا جائے گا۔ حکومت اس بار بھی زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنےمیں ناکام رہی۔ جی ڈی پی گروتھ 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے 3.7 فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ ہے۔ آئی ایم ایف ، عالمی بینک ، اے ڈی بی نے بھی شرح نمو کم رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔ فی کس آمدن ، زراعت اور صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف بھی پورا نہ ہوسکا تاہم ترسیلات زر میں اضافہ ہوا اور خدمات کے شعبے کی کارکردگی بہتر رہی۔
تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال کےدوران حکومتی معاشی کارکردگی کا اسکور کارڈ جمعرات کو جاری کرنے کا پلان ہے۔ رواں مالی سال بھی حکومت زیادہ تر معاشی اہداف حاصل نہیں کر سکی۔ جی ڈی پی گروتھ 4.2 فیصد ہدف کے برعکس 3.7 فیصد تک محدود رہے گی۔ اوسط مہنگائی7.50 فیصد سالانہ ہدف کے مقابلے میں 11 ماہ کے دوران 7 فیصد رہی جبکہ مئی میں مہنگائی کی ماہانہ شرح 11.66 فیصد تک جا پہنچی۔
دستاویز کےمطابق رواں مالی سال فی کس آمدن کا سالانہ ہدف 5لاکھ 60 ہزار 803 روپے تھا۔ تاہم فی کس آمدن 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہنے کا خدشہ ہے ۔ ڈالروں میں فی کس آمدن 150ڈالر اضافےسے1901 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ زراعت اور صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف پورا کرنے میں بھی ناکامی ۔ زرعی شعبے کی عبوری کارکردگی 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے 2.89 فیصد ۔ صنعتی شعبے کی گروتھ 4.30 فیصد ٹارگٹ کے برعکس 3.51 فیصد رہے گی۔
رواں مالی سال خدمات کےشعبے کی کارکردگی 4 فیصد ہدف سے کچھ زیادہ 4.09 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ ترسیلات زر میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ 11ماہ میں ترسیلات38 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ جون کے آخر تک 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے ۔ اشیا کی برآمدات کا ہدف تو 35.3 ارب ڈالر تھا۔ تاہم 11ماہ میں 28ارب ڈالر تک محدود رہیں۔ درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر ۔ 11ماہ میں 63 ارب ڈالر تک پہنچ چکیں۔
