امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی اور مستقبل کے جامع معاہدے کی بنیاد رکھنے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کا متن جاری کر دیا ہے، جس پر باضابطہ دستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں متوقع ہیں۔ دستاویز کے مطابق یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی مذاکرات اور خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئے مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے میڈیا نمائندوں کو دستاویز کے اہم نکات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان اسلام آباد کی مفاہمتی یادداشت‘‘ کے عنوان سے تیار کردہ اس دستاویز کا مقصد فوری جنگ بندی اور ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز ہے۔
دستاویز کے مطابق دونوں ممالک اور ان کے اتحادی لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور مستقبل میں ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگی سرگرمی سے گریز کے پابند ہوں گے۔ امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر بھی اتفاق کیا ہے۔
معاہدے کے تحت امریکا ایرانی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور 30 دن کے اندر اس عمل کو مکمل کرے گا، جبکہ ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت کے لیے عارضی انتظامات کرے گا۔ اس دوران بارودی سرنگوں اور دیگر رکاوٹوں کو ختم کرنے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
دستاویز میں ایران کی اقتصادی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے ترقیاتی اور تعمیر نو فنڈ کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے طریقہ کار کو حتمی معاہدے کے دوران طے کیا جائے گا۔ امریکا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے ضروری لائسنس، مالی چھوٹ اور قانونی اجازتیں فراہم کرے گا۔
معاہدے میں ایران کے خلاف تمام اقسام کی پابندیوں، بشمول امریکی، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے متعلق پابندیوں کے خاتمے کے لیے بھی ایک شیڈول ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ دستاویز کے مطابق ایران کے ذخیرہ شدہ انتہائی افزودہ یورینیم کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ’’کم سے کم طریقہ کار‘‘ کے تحت غیر مؤثر بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ بم گریڈ یورینیم کو کم افزودہ مواد کے ساتھ ملا کر اسے دوبارہ قابل استعمال فوجی مواد بننے سے روکا جائے گا۔
معاہدے کے تحت امریکا ایرانی تیل، پیٹرولیم مصنوعات، انشورنس، بینکاری اور ٹرانسپورٹ سے متعلق سرگرمیوں کے لیے فوری طور پر خصوصی چھوٹ جاری کرے گا، جبکہ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے طریقہ کار پر دونوں ممالک مذاکرات کے دوران متفق ہوں گے۔
دستاویز میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ معاہدے کے نفاذ اور مستقبل کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ ایگزیکٹو میکنزم قائم کیا جائے گا، جبکہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
