آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے جہازوں کے لیے ایران کی رعایت، 48 گھنٹے پہلے اجازت لینا لازمی قرار

Iran working on new “management plan” for the Strait of Hormuz, ship bans and toll fees possible

ایران نے امریکہ کے ساتھ حالیہ مفاہمتی یادداشت کے تحت جاری 60 روزہ مذاکراتی مرحلے کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے اہم رعایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عرصے میں کسی قسم کی راہداری یا خدمات کی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

ایران کی عربین گلف سٹریٹ اتھارٹی (PGSA) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عبوری معاہدے کے نفاذ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہشمند تمام بحری جہازوں کو اپنی آمد سے کم از کم 48 گھنٹے قبل راہداری کی درخواست جمع کرانا ہوگی۔

ایرانی حکام کے مطابق مذاکراتی مدت کے دوران بحری جہازوں سے سلامتی، حفاظتی اقدامات، ماحولیاتی خدمات اور متعلقہ انشورنس فیس بھی وصول نہیں کی جائے گی۔

نوٹس میں مزید کہا گیا کہ حالیہ جنگی صورتحال اور بعض علاقوں میں بارودی سرنگوں کے خطرات کے باعث جہازوں کے لیے مخصوص راستوں اور راہداری کے اوقات کار کے حوالے سے پیشگی رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہوگی تاکہ محفوظ بحری سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے