یورپی یونین کے ساتھ غیر قانونی مہاجرت اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق اہم مذاکرات کے لیے طالبان حکومت کا ایک وفد آج برسلز پہنچنے والا ہے۔ بیلجیئم حکام نے اس وفد کو محدود مدت کے لیے خصوصی ویزے جاری کیے ہیں، جس سے طالبان اور یورپی یونین کے درمیان عملی سطح پر رابطوں کا ایک نیا مرحلہ سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی کمیشن نے اگرچہ طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم بڑھتی ہوئی غیر قانونی ہجرت اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے معاملات پر پیش رفت کے لیے طالبان حکام کے ساتھ براہ راست بات چیت کا فیصلہ کیا ہے۔
بیلجیئم کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق طالبان وفد کے پانچ ارکان کو سیکیورٹی جانچ کے بعد ایک روزہ ویزے جاری کیے گئے ہیں۔ یہ ویزے صرف بیلجیئم کی حدود تک محدود ہیں اور شینگن زون کے دیگر ممالک میں سفر کے لیے قابلِ استعمال نہیں ہوں گے۔
اطلاعات کے مطابق طالبان وفد ترکی کے راستے برسلز پہنچے گا اور مذاکرات مکمل ہونے کے بعد اسی روز واپس روانہ ہو جائے گا۔
یورپی کمیشن کی جانب سے طالبان نمائندوں کو مذاکرات کی دعوت دینے کے فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض سیاسی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ ایسے روابط سے اسے بین الاقوامی سطح پر جواز مل سکتا ہے، جبکہ خواتین کے حقوق اور سیاسی آزادیوں سے متعلق صورتحال بدستور تشویش کا باعث ہے۔
اس کے باوجود یورپی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے متعلق عملی مسائل، خصوصاً غیر قانونی ہجرت، سرحدی نگرانی اور پناہ گزینوں کی واپسی جیسے معاملات پر رابطے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
