میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے کہا کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے آیا تھا، وہ یہاں پکنگ کے لیے نہیں آیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے ارادے سب کے سامنے تھے۔
بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا کہ بھارتی اور اسرائیلی سازش کا آسان ہدف بلوچستان ہے، جبکہ کلبھوشن یادیو بھی بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں اور دہشتگردوں کی حمایت کے لیے آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کا مشکل میں پاؤں اور آسانی میں گلے پکڑنے کی بات انہوں نے نہیں بلکہ پیر پگاڑا نے کی تھی، انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حالات بگڑ چکے ہیں اور وہ یہ دن کشمیر میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت اور ریاست کی پالیسی واضح ہے جبکہ عوام اور احتجاج کرنے والے گروپس کے مسائل بھی سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ چاہتی ہے کہ تمام مسائل سیاسی طریقے سے حل ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے کبھی انتخابات ملتوی کرنے کی بات نہیں کی اور نہ ہی پارٹی کشمیر میں پہلے الیکشن ملتوی کروانا چاہتی تھی اور نہ آج چاہتی ہے۔
