جی سی سی اعلامیہ: ایران، غزہ اور آبنائے ہرمز پر مشترکہ مؤقف، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور امریکا کے مشترکہ وزارتی اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں خطے کی سلامتی، غزہ، ایران، لبنان اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہم نکات پر اتفاق کرتے ہوئے سفارتی حل، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر زور دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا گیا اور اس عمل میں پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کو سراہا گیا۔ شرکا نے اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔

اعلامیے میں غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مسترد کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق کسی بھی فلسطینی شہری کو زبردستی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے واپسی کے حق کو بھی تسلیم کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اجلاس کے شرکا نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باوجود یہ سفارتی عمل جاری رہنا چاہیے۔ اعلامیے میں لبنان کی خودمختاری اور ریاستی عملداری کو مستحکم بنانے کی حمایت کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ طاقت کے استعمال کا اختیار صرف لبنانی ریاست کے پاس ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے لبنانی مسلح افواج کی مسلسل معاونت کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

اعلامیے میں ایران کے جوہری پروگرام پر بھی مشترکہ مؤقف اختیار کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس حوالے سے عالمی سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ مزید برآں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون صلاحیتوں اور خطے میں اس سے منسلک مسلح گروہوں کی سرگرمیوں پر بھی خدشات کا اظہار کیا گیا اور تجویز دی گئی کہ ان معاملات کو مستقبل کے سفارتی مذاکرات کا حصہ بنایا جائے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے اجلاس میں آزاد، محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کی حمایت کی گئی۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ پر کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس، اضافی فیس یا یکطرفہ کنٹرول قائم کرنے کی کوششیں قابل قبول نہیں ہوں گی۔

اجلاس کے اختتام پر شرکا نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے، تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مشترکہ علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے