امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے خلاف نئی سفارتی مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو امریکی خودمختاری کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک ویڈیو پیغام اور اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا قیام بنیادی طور پر جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کے لیے عمل میں آیا تھا، تاہم ان کے بقول عدالت اپنے اصل دائرۂ کار سے آگے بڑھ چکی ہے۔
روبیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی فوجی اہلکاروں، سرکاری حکام اور دیگر امریکی شہریوں کو آئی سی سی کی کارروائیوں کا نشانہ بننے نہیں دے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض حلقے بین الاقوامی قانون کے نام پر امریکی اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ آئی سی سی پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں عدالت کے بعض عہدیداروں پر پابندیاں، سفری پابندیاں، ویزوں کی منسوخی، عدالت سے وابستہ اداروں کے خلاف مزید اقدامات اور دیگر ممالک پر سفارتی دباؤ شامل ہو سکتا ہے تاکہ وہ آئی سی سی سے اپنا تعاون محدود کریں۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی شہریوں کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی آپشنز زیر غور ہیں۔
