کاشتکاروں کے لیے نیا چیلنج، گرمی کی شدت سے سبزیوں کی شکل بگڑنے لگی

شدید گرمی، خشک موسم اور پانی کی کمی صرف انسانوں ہی نہیں بلکہ فصلوں اور سبزیوں کی پیداوار کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

موسم گرما کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ اور بعض علاقوں میں پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے ایسے موسمی حالات سبزیوں کی افزائش، پیداوار اور معیار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں تاہم اس بار برطانیہ سے آنے والی ایک دلچسپ رپورٹ نے اس مسئلے کے ایک اور پہلو کی جانب توجہ دلائی ہے کہ شدید گرمی بعض سبزیوں کو کھانے کے لیے ناقابل قبول نہیں بلکہ صرف دیکھنے میں عجیب بنا رہی ہے۔

برطانیہ میں اس سال غیر معمولی گرم اور خشک موسم کے باعث کاشتکاروں کو ایسی سبزیوں کا سامنا ہے جو معمول کے مطابق سفید، سیدھی یا ہموار شکل میں نہیں اگ رہیں۔ کہیں پھول گوبھی دھوپ سے زرد پڑ رہی ہے، کہیں کھیرے مڑ کر تقریباً گول شکل اختیار کر رہے ہیں، کہیں پاک چوئی کے پتوں میں کیڑے سوراخ کر رہے ہیں اور کہیں آلو عجیب و غریب گانٹھوں کی شکل میں اگ رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین اور کاشتکاروں کے مطابق ان میں سے بیشتر سبزیاں صرف ظاہری شکل کے اعتبار سے متاثر ہوئی ہیں اور کھانے کے لیے بالکل محفوظ ہیں۔

برطانیہ میں اس سال شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی سبزیوں میں پھول گوبھی بھی شامل ہے۔ عام طور پر اس کے پھول نما حصے پتوں کے اندر چھپے رہتے ہیں اور براہ راست دھوپ سے محفوظ رہتے ہیں لیکن شدید گرمی میں جب زیادہ روشنی ان تک پہنچتی ہے تو ان کا سفید رنگ زرد یا بھورا پڑنے لگتا ہے۔

کاشتکاروں کے مطابق پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جس کے باعث پھول گوبھی اور بروکلی جیسی سبزیوں کی افزائش کی رفتار بھی متاثر ہو رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ان کی رسد کم ہوسکتی ہے۔ ایسے میں سپر مارکیٹوں کے پاس روایتی خوبصورتی کے معیار میں نرمی کے علاوہ زیادہ راستے نہیں بچیں گے کیونکہ ان کے لیے خالی شیلف اس سے بھی بڑا مسئلہ بن سکتے ہیں۔

شدید گرمی کا ایک اور دلچسپ اثر کھیرے کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔ کاشتکاروں کے مطابق بعض کھیرے سیدھے اگنے کے بجائے مڑ کر تقریباً گول یا پیچ دار شکل اختیار کر رہے ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کھیرے عموماً گرین ہاؤسز میں اگائے جاتے ہیں اور شدید بیرونی درجہ حرارت کے باعث اندر کا ماحول بھی حد سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔ پودے اس دباؤ کے نتیجے میں معمول کے مطابق افزائش نہیں کر پاتے حتیٰ کہ مناسب آبپاشی کے باوجود ان کی نشوونما رک سکتی ہے۔

گرمی کی شدت آلو کی شکل بھی بدل رہی ہے۔ کیمبرج شائر کی کاشتکار لوسی منز کے مطابق شدید گرمی میں آلو کی افزائش رکنے سے بعض اوقات ایک ہی آلو کے ساتھ الگ الگ چھوٹی گانٹھیں بن جاتی ہیں، جس سے وہ عجیب و غریب شکل اختیار کر لیتا ہے۔

ایسے آلو عام طور پر سپر مارکیٹیں اور چپس بنانے والے خریدار قبول نہیں کرتے جس سے خوراک کے ضیاع میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم منز کے مطابق یہ آلو کھانے کے لیے بالکل ٹھیک ہیں۔ صرف ان کی شکل کی وجہ سے انہیں رد کیا جاتا ہے اور گانٹھ والے حصے کو کاٹ کر باقی آلو معمول کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔

برطانیہ کی بعض بڑی سپر مارکیٹیں پہلے ہی ’کجی سبزیاں‘ یا نامکمل شکل کی سبزیوں کے لیے الگ لائنیں رکھتی ہیں۔ سپر مارکیٹ ’ویٹ روز‘ کے ماہر کالم کیلی کے مطابق مشکل موسمی حالات میں اہم سبزیوں کے سائز اور شکل کے معیار میں نرمی کی جا رہی ہے تاکہ خوراک ضائع ہونے سے بچائی جاسکے اور کاشتکاروں کو بھی آمدنی ملتی رہے۔

تاہم ہر کمی کو صرف عجیب شکل کی سبزیوں سے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ برطانیہ کے ریٹیل سیکٹر کے مطابق مقامی پیداوار کم ہونے کی صورت میں سپر مارکیٹیں بیرون ملک سے بھی زیادہ سبزیاں اور پھل درآمد کر رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں گرم اور خشک موسم مستقبل میں زیادہ عام ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں کاشتکاروں کو بہتر آبپاشی، پانی ذخیرہ کرنے کے نظام اور ایسی سبزیوں کی مارکیٹنگ پر توجہ دینا ہوگی جو شکل میں روایتی معیار پر پوری نہ اتریں مگر ذائقے اور غذائیت کے اعتبار سے بالکل درست ہوں۔

اور شاید اس پوری صورتحال کا سب سے سادہ سبق یہی ہے کہ سبزی کا ٹیڑھا، گانٹھ دار یا دھوپ سے زرد ہوجانا لازماً اس کے خراب ہونے کی علامت نہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے