بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملاڈیچ اقوام متحدہ کے حراستی مرکز میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 84 برس تھی۔ وہ بوسنیا جنگ کے دوران نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔ راتکو ملاڈیچ 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی بوسنیا جنگ میں بوسنیائی سرب فوج کے کمانڈر تھے۔ اقوام متحدہ کے سابق یوگوسلاویہ کے لیے قائم جنگی جرائم ٹریبونل نے انہیں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں مجرم قرار دیا تھا۔ انہیں 2017 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد ازاں 2021 میں اپیل پر بھی یہ سزا برقرار رہی۔ ملاڈیچ نے اپنی سزا کے خلاف آخری وقت تک مؤقف برقرار رکھا اور جرائم پر اظہارِ ندامت نہیں کیا۔
راتکو ملاڈیچ کو 1995 کے سربرنیتسا قتل عام میں مرکزی کردار ادا کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں 8 ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مرد اور لڑکے قتل کیے گئے تھے۔ یہ واقعہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کی بدترین نسل کشی میں شمار ہوتا ہے۔ ملاڈیچ کی فوج نے سراجیوو کے طویل محاصرے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے خلاف مقدمے میں غیر سرب آبادی کو علاقوں سے بے دخل کرنے کی مہم بھی شامل تھی۔
