ٹرمپ کا انتباہ: ’’اگر حماس نے قتل عام بند نہ کیا تو ہمارے پاس اندر جا کر انہیں مارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا‘‘

پاک بھارت جنگ کے دوران 7 نئے طیارے مار گرائے گئے، صدر ٹرمپ کا حیران کن انکشاف
واشنگٹن/غزہ/شرم الشیخ — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حماس غزہ میں شہریوں کے قتلِ عام اور سرعام اعداموں کو جاری رکھے گی تو “ہمیں اندر جا کر انہیں مارنا پڑے گا” — البتہ بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوجی خود غزہ میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ “قریب اور دستیاب” ایسے فریق موجود ہیں جو یہ کام انجام دے سکتے ہیں، مگر وہ وضاحت نہیں کرتے کہ اس سے مراد کون سے ملک یا فورس ہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی سے طے پائے گئے جنگ بندی معاہدے کے بعد پٹی کے بعض حصوں میں داخلی تشدد، مسلح گروہوں کی کارروائیاں اور حماس کی طرف سے مبینہ طور پر مخالفین کے خلاف سر عام اعدام کی ویڈیوز سامنے آئیں — جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسی پس منظر میں ٹرمپ نے انتباہی پیغام جاری کیا۔

ٹرمپ نے بعد ازاں صحافیوں سے کہا کہ “یہ ہم نہیں ہوں گے” — یعنی امریکی زمینی فوج براہِ راست غزہ میں داخل نہیں کرے گی — تاہم اُنھوں نے نشاندہی کی کہ علاقے میں ایسے کچھ قریب رہنے والے یا اتحادی ہیں جو موضوعِ عمل ہو سکتے ہیں اور وہ، ٹرمپ کے الفاظ میں، “یہ کام آسانی سے انجام دے دیں گے، مگر ہماری سرپرستی میں”۔ اس بیان نے جنگ بندی کی شرائط اور فریقین کے کردار کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے