وینزویلا میں مشتبہ منشیات بردار کشتی پر امریکی حملہ قانونی تھا، وائٹ ہاؤس کا دفاع

وینزویلا میں مشتبہ منشیات بردار کشتی پر امریکی حملہ قانونی تھا، وائٹ ہاؤس کا دفاع

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وینزویلا کے قریب ستمبر میں منشیات کی اسمگلنگ کے ایک مبینہ جہاز پر امریکی بحریہ کے حملے قانون کے مطابق کیے گئے تھے اور انہیں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی مکمل منظوری حاصل تھی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک خبر کے مطابق ابتدائی حملے سے بچ جانے والے دو افراد کو نشانہ بنانے کے لیے دوسرا حملہ بھی کیا گیا، جس نے اس کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوالات کھڑے کر دیے۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایڈمرل فرینک بریڈلی نے دوسرا حملہ ہیگستھ کی ہدایت پر کیا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اضافی حملہ نہیں چاہتے تھے اور ہیگستھ نے ایسا حکم نہیں دیا۔ اس کے باوجود، وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے پیر کو واضح کیا کہ وزیر دفاع نے 2 ستمبر کو ایڈمرل بریڈلی کو یہ حملے کرنے کا اختیار دیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ یہ کارروائی بین الاقوامی پانیوں میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے “خود دفاع” کے تحت کی گئی اور مسلح تصادم کے قانون کے مطابق تھی۔ ان کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ان منشیات فروش گروہوں کو “نارکو دہشت گرد” قرار دے رکھا ہے۔

ستمبر سے اب تک امریکی فوج نے کیریبین اور لاطینی امریکا کے ساحلی علاقوں میں مشتبہ منشیات بردار کشتیوں پر کم از کم 19 حملے کیے ہیں جن میں 76 افراد مارے گئے۔ اراکین کانگریس—ریپبلکن اور ڈیموکریٹس—نے ان حملوں کی قانونی حیثیت کا تفصیلی جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

قانونی ماہرین نے بھی خدشات ظاہر کیے ہیں۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی پروفیسر لورا ڈکنسن نے کہا کہ یہ کارروائیاں مسلح جنگ کے زمرے میں نہیں آتیں، اس لیے مہلک طاقت صرف ’’آخری حربے‘‘ کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق زندہ بچ جانے والوں کو نشانہ بنانا مسلح تصادم سے باہر قتل کے مترادف ہو گا، جو ممکنہ طور پر سنگین قانونی خلاف ورزی ہے۔

سابق فوجی وکلاء پر مشتمل JAGs ورکنگ گروپ نے اس مبینہ حکم کو “صاف غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے احکامات کی تعمیل کرنے والوں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلائے جانے چاہئیں۔

دوسری جانب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایڈمرل بریڈلی کا بھرپور دفاع کیا ہے اور انہیں “امریکی ہیرو” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے تمام فوجی فیصلوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے