ایتھنز — یونان کے کوسٹ گارڈ نے جزیرہ کریٹ کے قریب ایک بڑے ریسکیو آپریشن کے دوران 131 غیر قانونی تارکینِ وطن کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیا ہے۔
یونانی پولیس کے ترجمان کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران اسی علاقے سے مجموعی طور پر 840 تارکینِ وطن کو بحفاظت ریسکیو کیا جا چکا ہے، جو مشرقی بحیرۂ روم میں مہاجرین کے بڑھتے ہوئے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ہفتے کی صبح ایک ماہی گیری کی کشتی پر سوار تارکینِ وطن کو جزیرہ گاوڈوس کے جنوب میں تقریباً 14 ناٹیکل میل کے فاصلے پر دیکھا گیا، جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ریسکیو کیے گئے افراد کو بعد ازاں گا وڈوس منتقل کر دیا گیا، تاہم حکام کی جانب سے فوری طور پر ان کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی۔
یونانی حکام کے مطابق مشرقی بحیرۂ روم کا یہ سمندری راستہ بدستور انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے، جہاں بڑی تعداد میں تارکینِ وطن خصوصاً لیبیا سے یونان کے جزیرے کریٹ تک غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے سفر کی کوشش کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ خراب موسم، انسانی اسمگلرز کی غفلت اور پرانی کشتیوں کے باعث اس راستے پر ہلاکتوں کا خدشہ مسلسل موجود رہتا ہے، جبکہ یونانی کوسٹ گارڈ خطے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز تیز کرنے پر مجبور ہے۔
