ایران نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں سخت ردعمل کی وارننگ دے دی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی شمخانی

تہران — ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی نئی ’’جارحیت‘‘ کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تنبیہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے نئے ہتھیار حاصل کرنے یا اپنی جوہری صلاحیتیں بحال کرنے کی ہر کوشش کو فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

علی شمخانی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتوں کو محدود نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کے لیے کسی بیرونی اجازت یا منظوری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چھ ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری مقامات پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تجربات کے بعد ایران اپنی دفاعی حکمت عملی میں مزید مضبوطی لا چکا ہے۔

یہ ردعمل ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی مشترکہ پریس کانفرنس کے فوراً بعد سامنے آیا، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا تھا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کی تو ہر نئے خطرے کو فوری طور پر ختم کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ تہران اسرائیل کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق، ’’کوئی بھی نئی مہم جوئی کا ردعمل پچھلی بار کی بارہ روزہ جنگ سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔‘‘

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ واشنگٹن پر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے کے لیے مشترکہ فوجی کارروائی پر زور دے سکتا ہے۔ اسی تناظر میں ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ اپنے تعاون کو بھی محدود کر دیا ہے اور ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت جوہری معائنوں سے متعلق کسی بھی تعاون کے لیے قومی سلامتی کونسل کی پیشگی منظوری لازم قرار دی گئی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے