کابل – افغانستان کی سیاسی قیادت نے پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ذمہ داری طالبان حکومت کی پالیسیوں پر ڈالی ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق احمد مسعود نے کہا کہ طالبان کی غیر ذمہ دارانہ حکمت عملی اور شدت پسند گروہوں کی سرپرستی نے ملک کو نہ صرف عالمی تنہائی کا شکار کیا بلکہ داخلی سطح پر بھی شدید تنقید پیدا کی ہے۔
احمد مسعود نے واضح کیا کہ پاکستان کی حالیہ فضائی کارروائیاں طالبان حکومت کی پالیسیوں اور دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے القاعدہ، فتنہ الخوارج، جیش العدل اور دیگر شدت پسند گروہوں کو پناہ دے کر خطے میں کشیدگی کی فضا پیدا کی۔ مسعود نے مزید کہا کہ طالبان حکومت نے نہ صرف عالمی سطح پر اپنی قانونی حیثیت کھو دی بلکہ ملک کے عوام کو سیاسی نظام سے بھی باہر رکھا ہوا ہے۔
افغان سیاسی رہنما محمد محقق نے بھی طالبان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ امید کا دامن نہ چھوڑیں اور ملک میں بڑی تبدیلی کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ہزارہ برادری کے خلاف مظالم بند ہونے چاہئیں اور نسلی بنیادوں پر نشانہ بنانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت کی جارحانہ پالیسیوں اور شدت پسند گروہوں کی مسلسل سرپرستی سے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ افغان معاشرے کے مختلف حلقوں میں بھی سوالات اور تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ احمد مسعود اور محمد محقق کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف سیاسی اور عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے، اور اس کے اثرات مستقبل میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
