امریکی صدر Donald Trump کی تصویر سے مزین ایک یادگاری طلائی سکے کے ڈیزائن کی منظوری دے دی گئی ہے، جسے United States کے قیام کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس سکے کی منظوری ایک مشاورتی کمیشن نے دی، جسے صدر ٹرمپ نے نامزد کیا تھا۔ تاہم اس فیصلے پر اپوزیشن جماعت Democratic Party کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے، جہاں اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ سکے کے ایک رخ پر ڈونلڈ ٹرمپ کو میز کے ساتھ کھڑے دکھایا گیا ہے، جبکہ دوسرے رخ پر ایک عقاب کو پھیلے ہوئے پروں کے ساتھ ایک گھنٹی نما ساخت پر بیٹھا ہوا ظاہر کیا گیا ہے، جو امریکی علامتی تشخص کی عکاسی کرتا ہے۔
تاحال اس یادگاری سکے کی کوئی باقاعدہ مالی قدر (denomination) مقرر نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کی فروختی قیمت کے بارے میں تفصیلات جاری کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے زیادہ تر یادگاری اور علامتی حیثیت حاصل ہوگی۔
امریکی خزانچی Brandon Beach نے اس حوالے سے کہا کہ ایسے سکے تیار کرنا باعثِ فخر ہے جو امریکی جمہوریت اور قومی روح کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ان کے مطابق موجودہ صدر اس مقصد کے لیے موزوں ترین شخصیت ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی حاضر سروس صدر کی تصویر کو اس نوعیت کے یادگاری سکے پر نمایاں کرنا سیاسی طور پر حساس اقدام ہے، جو داخلی سیاست میں مزید تقسیم کا باعث بن سکتا ہے۔
