اسلام آباد سیف سٹی میں مشکوک غیرملکی سافٹ ویئر کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی سطح پر سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہوگئے۔ نیشنل سرٹ نے سافٹ ویئر و ہارڈ ویئر کے فوری آڈٹ اور سخت نگرانی کی ہدایت کردی۔
اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں غیرملکی مشکوک سافٹ ویئر کے استعمال کے انکشاف کے بعد متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ قومی انفراسٹرکچر میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کی جامع اسکیننگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نیشنل سرٹ نے تمام اداروں میں زیر استعمال سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کا فوری آڈٹ لازم قرار دیتے ہوئے ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس میں وینڈرز کی ملکیت، لاجسٹکس سسٹم اور سپلائی چین کے مکمل جائزے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق سافٹ ویئر کی ٹیسٹنگ ایک ہفتے جبکہ ہارڈ ویئر کی جانچ دو ہفتوں میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ کسی بھی خرابی یا مشکوک سرگرمی کی نشاندہی پر متاثرہ ہارڈ ویئر کو فوری طور پر الگ کرنے اور شواہد محفوظ بنانے کے ساتھ وینڈر کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔
نیشنل سرٹ کا کہنا ہے کہ غیر شفاف وینڈرز، غیر محفوظ لاجسٹکس اور غیر تصدیق شدہ سافٹ ویئر ریاستی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں جبکہ عالمی سپلائی چین اب سائبر تخریب کاری اور جاسوسی کا اہم محاذ بن چکی ہے۔
ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ سافٹ ویئر اپڈیٹس کو محفوظ نہ بنانے کی صورت میں بجلی، بینکاری اور دفاعی نظام متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ کمیونیکیشن ڈیوائسز، نیٹ ورک مینجمنٹ ٹولز اور صنعتی کنٹرول سسٹمز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
