مقبوضہ فلسطین کے لیے امداد لے جانے والے بین الاقوامی بحری بیڑے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتیوں کو اسرائیلی افواج نے بحیرۂ روم میں روک کر ان کے خلاف کارروائی کی ہے، جس کے بعد اس واقعے پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ بیڑا اٹلی سے روانہ ہوا تھا اور غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے جا رہا تھا، جہاں جاری جنگ کے باعث شدید انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی سب سے بڑی کوشش تھی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے اس آپریشن میں ڈرونز، کمیونیکیشن جیمنگ ٹیکنالوجی اور مسلح اہلکاروں کا استعمال کیا۔ فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کشتیاں اچانک قریب آئیں، لیزر شعاعیں ڈالیں اور اسلحے کے زور پر کشتیوں میں سوار افراد کو گھٹنوں کے بل بیٹھنے کا حکم دیا گیا۔
منتظمین کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی پانیوں میں کی گئی، جسے انہوں نے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ 58 کشتیوں پر مشتمل اس بیڑے میں سے کم از کم 7 کشتیوں کو کریٹ کے قریب قبضے میں لیا گیا، جبکہ متعدد کشتیوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ فلوٹیلا کے مطابق کم از کم 11 کشتیوں سے مکمل رابطہ ختم ہو چکا ہے، جس پر شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
فلوٹیلا کے ترجمان گور تسابر نے اس کارروائی کو “غیر مسلح شہری کشتیوں پر براہ راست حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی پانیوں میں ایسی کارروائی کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 400 سے زائد شہریوں کی جان خطرے میں ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بیڑے کو اسرائیلی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا اور فوج نے “عزم کے ساتھ کارروائی” کی۔
فلوٹیلا میں شامل کارکن طارق رؤف کے مطابق اسرائیلی بحری جہازوں نے بیڑے کو مکمل طور پر گھیر لیا تھا، جبکہ ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریڈیو سگنلز کو جام کیا گیا اور نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں اس نوعیت کی کارروائی ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، جس پر عالمی سطح پر قانونی اور سفارتی بحث کا آغاز متوقع ہے، اور یہ واقعہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
