محکمہ موسمیات نے موسم پر مبنی اپریل کی رپورٹ جبکہ رواں برس مئی، جون اور جولائی کی موسمی آؤٹ لک جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں ملک بھر میں بارش معمول سے 65 فیصد زیادہ ہوگئی، ملک میں اوسط بارش 41.1 ملی میٹر رہی۔ سندھ میں بارش معمول سے 169 فیصد جبکہ پنجاب میں 109 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں بارش 48 فیصد زیادہ جبکہ گلگت بلتستان میں معمول سے کم رہی۔
اپریل میں ملک کا اوسط درجہ حرارت پچیس ڈگری سینٹی گریڈ رہا، سب سے زیادہ درجہ حرارت 47.5 ڈگری شہید بینظیر آباد میں ریکارڈ ہوا، مٹھی اپریل کا گرم ترین شہر قرار،اوسط درجہ حرارت 39.9 ڈگری رہا
کالام میں کم سے کم درجہ حرارت 1.5 ڈگری رہا، بگروٹ گلگت بلتستان سرد ترین مقام قرار، اوسط کم درجہ حرارت پانچ اعشاریہ پانچ ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
پاراچنار اپریل کا سب سے زیادہ بارش والا شہر رہا ،جہاں 283.6 ملی میٹر ہوئی، اپریل کے دوران مغربی ہواؤں کے باعث مختلف علاقوں میں برفباری اور ژالہ باری ہوئی۔ میدانی علاقوں میں گرمی میں اضافہ جبکہ آخر میں گرم اور خشک موسم برقرار رہا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نیوٹرل انڈیکس برقرار، آئندہ مہینوں میں ایل نینو کے امکانات ہیں، انڈین اوشن ڈائی پول بھی نیوٹرل مرحلے میں داخل ہوگیا۔
مئی، جون اور جولائی کی موسمیاتی آؤٹ لک
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے رواں برس مئی، جون اور جولائی کی موسمیاتی آؤٹ لک جاری کر دی جس میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ ملک کے جنوبی علاقوں میں معمول سے کم بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،بارانی علاقوں کی فصلوں کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے، بالائی علاقوں میں اضافی بارش سے پانی کے ذخیروں میں بہتر ہونے کی توقع ہے۔ شمالی علاقوں میں شدید بارشوں سے فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، جنوبی پنجاب اور سندھ میں ہیٹ ویو کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ،آندھی،گرد آلود طوفان اور ژالہ باری کا خطرہ بن سکتا ہے، موسمی شدت سے فصلوں، انفرااسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، گلگت بلتستان اور کشمیر میں درجہ حرارت بڑھنے سے برف پگھلنے کی رفتار تیز ہو گی، گلیشئر سے متعلقہ خطرات اور دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ہے، زیادہ درجہ حرارت سے کیڑوں اور بیماریوں میں اضافہ، فصلوں کو نقصان کا خدشہ ہے،ڈینگی سمیت ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھے گا۔
