Abbas Araghchi دورۂ چین پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب Wang Yi سے اہم ملاقات کریں گے، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور عالمی پیش رفت زیرِ بحث آئے گی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں ایران اور چین کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی، اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دونوں رہنما علاقائی سلامتی، توانائی کے معاملات اور بین الاقوامی سفارتکاری کے نئے امکانات پر بھی گفتگو کریں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور سفارتی سطح پر مختلف ممالک کے ذریعے رابطے جاری ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Ismail Baghaei پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ موجودہ جنگ امریکا کا انتخاب تھی اور اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کر رہی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ عباس عراقچی کا یہ دورہ امریکی صدر Donald Trump کے ممکنہ دورۂ چین سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہو رہا ہے، جسے سفارتی حلقوں میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقاتیں نہ صرف ایران-چین تعلقات کو نئی جہت دے سکتی ہیں بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔
