لندن میں برطانوی حکومت نے ایران سے منسلک ایک مبینہ نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے اسے حملوں کی منصوبہ بندی اور مالیاتی معاونت کے ذریعے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملوث قرار دیا ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق مجموعی طور پر بارہ افراد اور اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مجرمانہ نیٹ ورک سے وابستہ ہیں، جبکہ متعدد مالیاتی ادارے اور تبادلہ مراکز بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔
حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ نیٹ ورک برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں افراد اور املاک کے خلاف دھمکیوں، حملوں کی منصوبہ بندی اور بعض کارروائیوں میں سہولت کاری میں ملوث رہا ہے۔ برطانوی موقف کے مطابق بعض مالی اداروں نے ایسے عناصر کو خدمات فراہم کیں جن کا تعلق غیر مستحکم سرگرمیوں سے جوڑا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود رقوم کی ترسیل ممکن ہوئی۔
برطانوی حکام نے پابندیوں کے تحت تمام نامزد افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کرنے، سفری پابندیوں اور کمپنی ڈائریکٹر کی نااہلی جیسے اقدامات بھی نافذ کیے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے ماضی میں ایسے تمام الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے جن میں اس پر بیرونی ممالک میں حملوں یا سازشوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہو۔
برطانیہ نے اس پیشرفت کے بعد اپنے اندرونی سکیورٹی نظام کو مزید سخت کرتے ہوئے قومی خطرے کی سطح کو بھی بلند کر دیا ہے اور پولیس و سکیورٹی اداروں نے غیر ملکی ریاستوں سے منسلک ممکنہ خطرات پر نگرانی بڑھا دی ہے۔
