ایران کی حکومت نے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو چین کے امور کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کر دیا ہے، جسے تہران اور بیجنگ کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ محمد باقر قالیباف کو حال ہی میں چین کے حوالے سے حکومت اور مختلف قومی اداروں کے درمیان رابطہ کار کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ ایران اور چین کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کے معاملات میں خصوصی کردار ادا کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اس تقرری کی تجویز ایرانی صدر Masoud Pezeshkian کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei نے اس کی منظوری دی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ باقر قالیباف کو ماضی میں تعینات کیے جانے والے خصوصی نمائندوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع اختیارات دیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم اور مؤثر بنانے کا خواہاں ہے۔
تسنیم کے مطابق باقر قالیباف چین سے متعلق مختلف قومی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے فرائض انجام دیں گے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا وہ اس نئی ذمہ داری کے ساتھ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے عہدے پر بھی برقرار رہیں گے یا نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سفارتی روابط کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
