ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورے کے موقع پر تحریکِ کشمیر ناروے اور پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی جانب سے اوسلو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں سمیت خواتین، مردوں اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، اسلاموفوبیا، جبر اور ناانصافی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے کے شرکاء نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق سلب کر رہی ہے اور وہاں ایک منظم جبر کا نظام قائم ہے۔ مقررین نے زور دیا کہ عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں۔
انہوں نے ناروے کی حکومت، اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں اور بھارتی قیادت کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی کا جائزہ لیں۔
مقررین نے بھارتی افواج کی کارروائیوں اور مقبوضہ کشمیر کی مجموعی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
