سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اعلامیہ جاری کر دیا گیاہے جس میں مشرق وسطیٰ کشیدگی اور محدود مالی گنجائش ترقیاتی منصوبوں کیلئے چیلنج قرار دی گئی ہے ۔
اے پی سی سی اعلامیہ کے مطابق وفاقی ترقیاتی اخراجات میں اضافہ ناگزیر ہے،ترقیاتی بجٹ کاجی ڈی پی میں حصہ 2018 سے کم ہو رہا ہے،صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں اور وفاقی پی ایس ڈی پی کے درمیان فرق بڑھنے لگا ہے،مالی دباؤ کے باعث پانی،رابطہ کاری اوراعلیٰ تعلیم کے بڑے منصوبوں کی فنڈنگ متاثر ہوئی ہے،مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی عبوری معاشی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اے پی سی سی کے مطابق مالی سال 2026-27 کیلئےمعاشی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد ، زرعی شعبے کی شرح نمو کا ہدف 3.8 فیصد مقرر کیا گیا ہے،آئندہ مالی سال صنعتی شعبے کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد ، خدمات کے شعبے کی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد رکھا گیا،آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ظاہرکیا گیا۔
سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کے 15 فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ، قومی بچتوں کا ہدف جی ڈی پی کے 14.3 فیصد کے برابر مقرر کیا گیا۔ وزارت خزانہ نے مجوزہ معاشی اہداف کو حقیقت پسندانہ اور قابل حصول قرار دیدیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2026-27 کے معاشی اہداف کی حمایت کر دی ہے۔وزارت تجارت نے برآمدات اور درآمدات کے مجوزہ اہداف سے اتفاق کیا ہے۔
2017-18 میں پی ایس ڈی پی قومی بجٹ کا 19.6 فیصد اور جی ڈی پی کا 2.5 فیصد تھا، رواں مالی سال پی ایس ڈی پی بجٹ کے 4 فیصد اور جی ڈی پی کے 0.6 فیصد تک محدود ہے، ایک ہزار ارب روپے کا پی ایس ڈی پی دو کٹوتیوں کے بعد 837 ارب روپے رہ گیا،یکم جون 2026 تک ترقیاتی منصوبوں پر 529 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ پی ایس ڈی پی صرف بجٹ نہیں بلکہ قومی عزم اور ترقی کا اظہار ہے، پاکستان اب بھی معاشی جھٹکوں کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے،قومی ترقی کیلئے قرضوں کے بجائے مقامی وسائل اور برآمدات پر توجہ دینا ہو گی، باعزت قومیں قرضوں پر نہیں بلکہ برآمدات اور پیداواری صلاحیت پر انحصار کرتی ہیں، برآمدات اقتصادی خودمختاری کی ماسٹر چابی ہیں، زرمبادلہ کی ضروریات بانڈزیا قرضوں سے نہیں بلکہ برآمدات سے پوری ہونی چاہیے،کوریا، ملائیشیا، ویتنام اور چین کی ترقی کی بنیاد پیداوار اور برآمدات رہیں۔
وزارت منصوبہ بندی نے برآمدات کے فروغ کو قومی ترجیح قرار دے دیا، احسن اقبال نے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کا تھرو فارورڈ 10 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ وزارتوں نے پی ایس ڈی پی 2026-27 کیلئے4100 ارب روپے کی فنڈنگ طلب کر لی ہے۔
اے پی سی سی کے مطابق وزارت خزانہ نے پی ایس ڈی پی کیلئے 1126 ارب روپے کی حد مقرر کر دی ہے،وفاقی پی ایس ڈی پی جمود کا شکار جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگرام 3 ہزار ارب روپےتک پہنچ گئے، وسائل کی کمی،پی ایس ڈی پی 2026-27 میں نئےمنصوبوں کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے،ایکنک سے 14 ہزار 687 ارب روپے لاگت کے 197 منصوبے منظور ہوئے، سی ڈی ڈبلیو پی سے 1045 ارب روپے لاگت کے 335 منصوبےمنظور ہوئے، ڈی ڈی ڈبلیو پی سے 133 ارب روپےلاگت کے 254 منصوبوں کی منظوری ہوئی،وفاقی پی ایس ڈی پی میں بنیادی انفراسٹرکچر منصوبوں کو اولین ترجیح دی جائےگی۔
اعلامیہ کے مطابق 2026-27 کیلئے 4715 ارب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی سفارش کی گئی ہے،قومی ترقیاتی پروگرام میں وفاقی پی ایس ڈی پی 1126 ارب، صوبائی اے ڈی پیز 3138 ارب روپے شامل ہے، سرکاری اداروں کی سرمایہ کاری کا حجم 451 ارب روپے مقرر ہے،دستیاب وسائل کا 98 فیصد سےزائدحصہ جاری منصوبوں کیلئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے، پانی، توانائی، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی، میگا منصوبوں میں ایم ایل ون، دیامر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیم شامل ہے، جاری منصوبوں کی تکمیل موجودہ فنڈنگ رفتار سے تقریباً 10 سال میں ممکن ہو گی، 80 فیصد سےزائد مکمل منصوبوں کو آئندہ مالی سال میں مکمل کرنے پر زور دیا گیاہے ۔
آزاد کشمیر،گلگت بلتستان اور ضم شدہ اضلاع کے فنڈز محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، بلوچستان، گوادر،آزاد کشمیراورگلگت بلتستان کو خصوصی ترجیح دی جائےگی۔
