ڈنمارک میں سیاسی بحران کا خاتمہ، میٹے فریڈرکسن تیسری بار وزیرِاعظم منتخب

کوپن ہیگن: ڈنمارک میں دو ماہ سے زائد عرصے تک جاری سیاسی غیر یقینی صورتحال کے بعد سوشل ڈیموکریٹ رہنما Mette Frederiksen نے نئی اقلیتی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی وہ مسلسل تیسری مرتبہ ملک کی وزیرِاعظم بن گئی ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مارچ 2026 کے عام انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی تھی، جس کے باعث حکومت سازی کا عمل طویل مذاکرات اور سیاسی مشاورت کا شکار رہا۔ تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد 12 سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں نئی حکومت تشکیل دی گئی۔

انتخابی نتائج میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی کارکردگی ماضی کے مقابلے میں کمزور رہی۔ پارٹی کی پارلیمانی نشستیں 50 سے گھٹ کر 38 رہ گئیں، جسے 1903 کے بعد جماعت کی بدترین انتخابی کارکردگی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود میٹے فریڈرکسن اتحادی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں اور نئی حکومت تشکیل دے دی۔

نئی حکومت کو داخلی اور خارجی سطح پر کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ ان میں سب سے نمایاں مسئلہ Greenland سے متعلق بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے سے متعلق بیانات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے۔

میٹے فریڈرکسن نے واضح کیا ہے کہ ڈنمارک اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کے امریکی کنٹرول یا دباؤ کی کوشش نہ صرف ڈنمارک بلکہ NATO کے اتحاد اور مستقبل کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

علاوہ ازیں حکومت کو یورپی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا، خصوصاً Russia-Ukraine War کے باعث خطے میں دفاعی اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی تناظر میں ڈنمارک پہلے ہی اپنے دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 3 فیصد سے زائد تک بڑھا چکا ہے، جبکہ خواتین کے لیے لازمی فوجی بھرتی کے دائرہ کار میں بھی توسیع کی جا چکی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے