اسپین کا دوٹوک مؤقف: ایران کے خلاف امریکا یا اسرائیل کی کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے

ہسپانوی وزیر خارجہ José Manuel Albares نے واضح کیا ہے کہ اسپین ایران کے خلاف امریکا یا اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہوگا اور خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے دور رہے گا۔

برطانوی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہسپانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ایسی کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا جو مشرقِ وسطیٰ میں مزید عدم استحکام اور تنازع کا باعث بنے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران سے متعلق بحران کا حل فوجی راستے کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات میں مضمر ہے۔

جوز مینوئل الباریس کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں اصل تقسیم ممالک یا اتحادوں کے درمیان نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور ’’جنگل کے قانون‘‘ کے درمیان ہے۔ ان کے مطابق اگر بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا تو دنیا افراتفری، تشدد اور مسلسل جنگوں کی جانب بڑھ سکتی ہے۔

ہسپانوی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کو تنازعات کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوجی محاذ آرائی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے