نئے وفاقی بجٹ میں کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کا کوئی ایک نیا منصوبہ شامل نہیں کیا گیا

پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سےسب سےزیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہونے کے باوجود نئے وفاقی بجٹ میں کلائمیٹ چینج سےنمٹنے کے لیےکوئی نیا منصوبہ شامل نہیں کیاگیا،جبکہ تین جاری منصوبوں کیلئے بھی برائے نام فنڈزمختص کیےگئےہیں۔

آئندہ مالی سال کےلیےکلائمیٹ چینج ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات سامنےآگئی ہیں،جن کے تحت صرف 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں،جو پہلے سے جاری منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔

دستاویز کےمطابق ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کےجاری منصوبوں کی مجموعی لاگت 123 ارب 51 کروڑ روپے ہے،جن میں سے 30 جون 2026 تک بمشکل 35 ارب روپے خرچ ہونے کی توقع ہے۔

گزشتہ سال اس شعبےکےلیے 2 ارب 30 کروڑروپےمختص کیےگئےتھے،تاہم رواں سال بھی فنڈنگ میں خاطرخواہ اضافہ نہیں کیاگیا،گرین پاکستان پروگرام کےلیے 2 ارب 49 کروڑ 70 لاکھ روپےمختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے،جبکہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 122 ارب 14 کروڑ روپے ہے۔

دستاویز کےمطابق وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کی تکنیکی استعدادبڑھانے کے لیے 29 کروڑ روپےسےزائد رقم رکھی گئی ہے،جبکہ پائیدارترقی اہداف کےتحت گرین اسکلزمنصوبے کے لیے صرف 16 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کو ہر سال سیلاب،ہیٹ ویوز اور دیگر قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے، اس کے باوجود ماحولیاتی تحفظ کے لیے جامع منصوبہ بندی اور نئی سرمایہ کاری سامنے نہیں آ سکی۔

یاد رہےکہ گزشتہ سال سیلاب کے دوران 1000 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے،تاہم ماہرین کے مطابق ارلی وارننگ سسٹم اور مون سون پلان پر عملدرآمد تاخیر کا شکار ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے