اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ بین الاقوامی معاہدے یا مفاہمت میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا اور اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خودمختارانہ انداز میں کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی پیش رفت اور مفاہمتی عمل کے تناظر میں اسرائیل پر لبنان میں فوجی کارروائیاں محدود یا بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ لبنان میں کشیدگی میں کمی خطے میں وسیع تر سفارتی کوششوں اور ایران کے ساتھ مذاکراتی ماحول کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے، خصوصاً Hezbollah کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی کے معاملات میں مکمل خودمختار ہے اور ایران سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی سمجھوتے کا لازمی حصہ بننا ضروری نہیں سمجھتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اپنے دفاع اور سیکیورٹی کے حوالے سے فیصلے خود کرے گا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ لبنان کی صورتحال کو بھی اس وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ جنوبی لبنان میں سیکیورٹی خطرات بدستور موجود ہیں اور ایسے حالات میں فوجی کارروائیوں پر مکمل پابندی اسرائیل کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
