ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے نئے مرحلے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جامع مذاکرات کا آغاز سوئٹزرلینڈ میں کیا جائے گا، جہاں دونوں ممالک کئی اہم اور حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ مذاکراتی عمل مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والے فریم ورک کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکراتی وفد کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، جو تہران کے مؤقف کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف معاملات پر بات چیت کریں گے۔
دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کے سپرد کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات کے اگلے مرحلے میں اعلیٰ سطحی سیاسی نمائندگی کے ذریعے ایران کے ساتھ ممکنہ جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی، علاقائی سلامتی، تجارتی تعاون اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئیں گے۔ دونوں فریق اس بات کی کوشش کریں گے کہ ابتدائی مفاہمت کو ایک ایسے مستقل اور قابلِ عمل معاہدے میں تبدیل کیا جائے جو طویل المدتی استحکام کا باعث بن سکے۔
