آبنائے ہرمز کھول دی گئی، ایران نے آئی اے ای اے معائنہ کاروں کی واپسی پر رضامندی ظاہر کر دی: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر J. D. Vance نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں اور متعدد اہم معاملات میں پیشرفت حاصل کی گئی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں مختلف امور پر کام کر رہی ہیں اور گزشتہ روز ایرانی وفد کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں متعدد معاملات کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کو باضابطہ طور پر دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور ایران نے International Atomic Energy Agency کے معائنہ کاروں کی واپسی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ان کے مطابق جوہری معائنہ کاروں کی تعیناتی ممکنہ طور پر اسی ہفتے، بلکہ آج ہی شروع ہو سکتی ہے۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایک کامیاب اور حتمی معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد رکھی جا چکی ہے اور آنے والے دنوں اور ہفتوں میں تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ بندی کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثے ایرانی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہوں، نہ کہ دہشت گردی یا عسکری سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے۔

جے ڈی وینس نے لبنان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مؤثر طریقہ کار پر بات کر رہا ہے اور تمام فریقین کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ہم آہنگی قائم کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ ایران لبنان میں حزب اللہ کو کنٹرول میں رکھے اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جو خطے میں نئی کشیدگی کا باعث بنے۔

امریکی نائب صدر نے صدر Donald Trump کے حالیہ بیانات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کو واضح کرنا اور ضرورت پڑنے پر جواب دینا امریکی قیادت کی ذمہ داری ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے