امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے چپ ڈیزائن میں ایک نئی پیشرفت کا اعلان کیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے مستقبل میں ایک ناخن جتنی چھوٹی سلیکون چپ میں 100ارب ٹرانزسٹرز نصب کرنا ممکن ہو سکے گا۔
عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق اس وقت چپ انڈسٹری میں جدید ترین چپس کا سائز تقریباً 2 نینو میٹر سمجھا جاتا ہے جہاں ایک نینو میٹر ایک میٹر کا ایک اربواں حصہ ہوتا ہے۔ تاہم آئی بی ایم کا دعویٰ ہے کہ اس کی نئی نینو اسٹیک ٹیکنالوجی تقریباً 0.7 نینو میٹر کے برابر ہے جو اسے دنیا کی پہلی معلوم چپ ٹیکنالوجی بنا سکتی ہے جو ایک نینو میٹر سے بھی کم سطح پر کام کرے۔
اگرچہ کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیداوار تک پہنچنے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں، لیکن ابتدائی تجربات میں اس کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔
آئی بی ایم کے مطابق نئی چپ نے آزمائشی مراحل میں کمپنی کی 2 نینو میٹر چپ کے مقابلے میں 50 فیصد بہتر کارکردگی اور 70 فیصد زیادہ توانائی بچت کا مظاہرہ کیا۔
کمپنی نے یاد دلایا کہ 2021 میں متعارف کرائی گئی اس کی 2 نینو میٹر چپ ٹیکنالوجی نے بھی کارکردگی اور توانائی کے استعمال میں نمایاں بہتری دکھائی تھی۔
ٹرانزسٹرز سلیکون چپس کے بنیادی اجزا ہوتے ہیں جو اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، گیمنگ کنسولز اور دیگر الیکٹرانک آلات کو کمپیوٹنگ طاقت فراہم کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ ڈیٹا سینٹرز میں موجود طاقتور کمپیوٹرز کے لیے بھی زیادہ طاقتور چپس کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق جتنے زیادہ ٹرانزسٹرز ایک چپ میں نصب کیے جا سکیں چپ اتنی ہی زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے۔
