پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمی، وجوہات کیا ہیں؟

پشاور میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔ بعض علاقوں میں واٹر ٹیبل ایک میٹر سے زائد سالانہ کی رفتار سے گر رہا ہے جبکہ گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران مجموعی طور پر زیرِ زمین پانی کی سطح اوسطاً 6.5 میٹر تک نیچے جا چکی ہے۔

پشاور ویلی میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ پشاور شہر میں یہ رفتار تقریباً ایک میٹر سالانہ جبکہ نوشہرہ میں 1.3 میٹر سالانہ ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین اس کی بڑی وجوہات آبادی میں اضافہ، بے ہنگم شہری توسیع اور ٹیوب ویلوں کے بے دریغ استعمال کو قرار دیتے ہیں۔

آخری بار 2019 میں ہونے والی تحقیق کے مطابق پانی کی سطح صرف گر نہیں رہی بلکہ اس کا معیار بھی تشویشناک ہے۔ پانی کے تجزیے میں تقریباً 45 فیصد نمونے پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیے گئے، جن میں نائٹریٹ، ذرات اور دیگر آلودگیوں کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی۔

ماہرین نئی جامع گراؤنڈ واٹر مانیٹرنگ، ٹیوب ویلوں کی رجسٹریشن، بارش کے پانی کے ذخیرے اور شہری سطح پر پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گراؤنڈ واٹر کے استعمال کو مؤثر انداز میں ریگولیٹ نہ کیا گیا، تو آنے والے برسوں میں پشاور ویلی میں پانی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے