صدر آئی پی پی آزاد کشمیر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی جانب سے حملے کے بعدویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم حلقہ ایل اے 22 پونچھ 5 میں اپنے آبائی گھر جا رہے تھے۔ جب ہمارا قافلہ آزاد کشمیر کی حدود میں داخل ہوا تو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد یونین کونسل ٹائیں ڈھلکوٹ کے مقام پر مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سردار تنویر الیاس کا کہناتھا کہ اس حملے میں میرا ساتھی ایس ایس جی کمانڈو سردار محمد آصف مجھے بچاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا جبکہ قافلے میں شامل دیگر ساتھی بھی زخمی ہوئے۔جو عناصر ریاست میں آٹے اور اشیائے خوردونوش کی قلت کا شور مچاتے ہیں وہی خود راستے بند کر کے ریاستی نظام اور عام آدمی کی زندگی کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ ہم نے معاملات کو افہام و تفہیم اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر یہ دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ دہشت گردی اور لاقانونیت کا راستہ اختیار کرنے والوں سے ریاست کو آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔
ان کا کہناتھا کہ آج شہید ہونے والے سردار محمد آصف کا آخر کیا قصور تھا؟ اسی طرح ہمارے رینجرز، پولیس اور ایف سی کے جوان بھی آئے روز ان دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہادتیں دے رہے ہیں۔ ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے اور ضرورت پڑنے پر فوج کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایسے عناصر کو پونچھ سمیت ریاست کے کسی بھی حصے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔آئندہ پتھر کا جواب پتھر سے اور اینٹ کا جواب اینٹ سے دیا جائے گا۔ ریاست کو ہائی جیک کرنے والوں، لاقانونیت پھیلانے والوں اور ریاست کے اندر را کا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت یا چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔
