عبدالملک الحوثی کا امریکہ اور سعودی عرب پر شدید تنقید، عراق پر حملوں کو ‘گریٹر اسرائیل’ منصوبے کا حصہ قرار دے دیا

یمن کی انصار اللہ (حوثی) تحریک کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے عراق پر امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے مشرقِ وسطیٰ کو ازسرِ نو ترتیب دینے اور "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کا حصہ ہیں۔

ٹیلی ویژن خطاب میں عبدالملک الحوثی نے کہا کہ عراق کے خلاف حالیہ کارروائیاں محض فوجی حملے نہیں بلکہ ایک وسیع تر امریکی اور صہیونی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے کے سیاسی اور جغرافیائی منظرنامے کو تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انصار اللہ عراق کے عوام، سیکیورٹی اداروں اور مزاحمتی گروہوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور امریکہ و سعودی عرب کی کارروائیوں کو غیرقانونی جارحیت سمجھتی ہے۔

حوثی رہنما کے مطابق خطے میں ایران، لبنان، فلسطین، شام اور عراق سمیت مختلف ممالک پر دباؤ اسی منصوبے کا حصہ ہے، جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حکمت عملی کا حتمی ہدف "گریٹر اسرائیل” کے تصور کو عملی شکل دینا ہے۔

عبدالملک الحوثی نے خبردار کیا کہ ان کے بقول یہ منصوبہ صرف مزاحمتی قوتوں ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے، حتیٰ کہ ان ممالک کے لیے بھی جو امریکہ کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔

انہوں نے سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریاض امریکی پالیسیوں کے مطابق خطے میں کردار ادا کر رہا ہے اور یمن کے خلاف محاصرہ مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصار اللہ اپنی "محاصرے کے بدلے محاصرہ” کی حکمت عملی پر قائم رہے گی۔

عبدالملک الحوثی نے فلسطین اور غزہ کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کیا اور مسلم ممالک سے مشترکہ مؤقف اپنانے کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری بحران کے دوران مسلم ممالک کو بیرونی مداخلت کے بجائے اپنے مشترکہ مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے