سرحدی کمیشن کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ میں منعقد ہوا، اجلاس کی مشترکہ صدارت چین کی وزارتِ خارجہ کے محکمہ سرحدی و سمندری امور کے نائب ڈائریکٹر جنرل لی یا اور پاکستان کے دفترِ خارجہ میں چین امور کے ڈائریکٹر جنرل بلال محمود چودھری نے کی۔
پاکستان اور چین نے اپنی مشترکہ سرحد کے انتظام کے لیے ایک نیا مشترکہ کمیشن فعال کر دیا ہے جسے دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق یہ پلیٹ فارم سرحدی انتظام، تجارت، مشترکہ سروے اور عوامی روابط کے فروغ میں مدد دے گا، یہ کمیشن 2013 میں پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے سرحدی انتظام کے معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا، تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر فعال کیا گیا ہے، اس کے ذریعے سرحدی نشانات کی دیکھ بھال، سرحد پار سہولیات کے انتظام، مشترکہ جائزوں اور دیگر عملی امور پر رابطہ کاری کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خنجراب گزرگاہ کے ذریعے ہونے والی آمدورفت، تجارت اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے جڑے معاملات میں تعاون مزید مضبوط ہو سکے گا۔
پاکستان اور چین کا نیا کمیشن کسی سرحدی تنازع سے متعلق نہیں بلکہ پہلے سے متعین سرحد کے انتظام اور عملی مسائل کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
