امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے پہلی بڑی رخصتی سامنے آگئی ہے۔ محکمہ انصاف کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ہرمیت ڈھلون اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز اور امریکی میڈیا کے مطابق ہرمیت ڈھلون محکمہ انصاف کے شعبہ شہری حقوق کی سربراہ تھیں۔ امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے جمعرات کو ان کا استعفیٰ قبول کرنے کا اعلان کیا۔
ٹوڈ بلانش نے ان کی خدمات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈھلون نے شہری آزادیوں کے تحفظ اور قانون کے نفاذ میں کردار ادا کیا۔
ہرمیت ڈھلون نے واضح کیا کہ ان کا استعفیٰ انتخابی شکست کے ردعمل میں نہیں تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے وائٹ ہاؤس کو اکتوبر میں اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے ان سے درخواست کی تھی۔ وہ وسط مدتی انتخابات تک عہدے پر برقرار رہیں۔
ڈھلون کے مطابق وہ نجی قانونی شعبے میں واپس جانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ انصاف میں اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرچکی ہیں۔

