ترکیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق معاہدہ 279 ووٹوں سے منظور ہوا۔ اس کے خلاف 119 ارکان نے ووٹ دیا۔ ووٹنگ میں پارلیمان کے 398 ارکان نے حصہ لیا۔
یہ معاہدہ گزشتہ ماہ ترک پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے خارجہ امور کی کمیٹی بھی اس کی منظوری دے چکی تھی۔
ترک پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین فواد اوکتائے نے معاہدے کا دفاع کیا۔ ان کے مطابق یہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ اس کا مقصد کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں۔
حکومتی ارکان نے بھی کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد جنگ کو بڑھانا نہیں بلکہ تنازعات روکنا ہے۔ تاہم، اپوزیشن کے بعض ارکان نے اس کے ممکنہ اثرات پر تحفظات ظاہر کیے۔
معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور ہوگا۔ اس صورت میں متاثرہ ملک کو دیگر دونوں ممالک سے مدد مل سکے گی۔
تاہم، ترکیہ کی فوج کو بیرونِ ملک لڑائی میں بھیجنے کے لیے الگ پارلیمانی اجازت درکار ہوگی۔ معاہدے کی منظوری سے ترک فوج کی تعیناتی خودکار طور پر شروع نہیں ہوگی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف موجود تھے۔
معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی مضبوط بنانا ہے۔ اس میں دفاعی تعاون، مشترکہ تربیت اور فوجی رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید یہ کہ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور دفاعی صنعت میں تعاون بھی شامل ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک مشترکہ خطرات کے مقابلے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

