ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکا سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے ایران کی طے کردہ شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران ہر قسم کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ قطر کی ثالثی میں ایران کا سات روزہ منصوبہ اس عمل کی بنیادی دستاویز ہے۔ ان کے بقول، موجودہ رابطے بھی اسی منصوبے کے تحت ہو رہے ہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران کو اس منصوبے پر بعض تبصرے موصول ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اگر سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے ایرانی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دوسری جانب، ملک ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہے۔
کاظم غریب آبادی نے گزشتہ رات قشم میں پیش آنے والے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، ان واقعات سے متعلق اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی حالتِ جنگ میں ہے۔ فوجی جارحیت مکمل اور مستقل طور پر ختم ہونے تک ایران کو اپنے دفاع کا قانونی حق حاصل ہے۔
مزید یہ کہ اگر امریکا نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا تو ایران بھرپور دفاع کرے گا۔
امریکی انتخابات سے متعلق سوال پر کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی کو دوسرے ممالک کے انتخابات سے نہیں جوڑتا۔
ان کے مطابق، ایران نہ امریکی انتخابات کا انتظار کر رہا ہے اور نہ ہی ان کے نتائج کے مطابق اپنی پالیسیاں تبدیل کرے گا۔

