امریکی ماہر تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے اثرات پاکستان اور افغانستان تک پہنچ سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر رابرٹ پیپ نے اس حوالے سے ایک نقشہ جاری کیا ہے۔ اس میں ایران کے پِکیکس ماؤنٹین پر ممکنہ جوہری حملے کے اثرات دکھائے گئے ہیں۔
پروفیسر رابرٹ پیپ کے جاری کردہ نقشے میں تابکاری پھیلنے کے ممکنہ راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نقشے کے مطابق پاکستان کے مغربی اور شمالی علاقوں تک تابکاری پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پروفیسر پیپ نے کہا کہ افغانستان کے مختلف علاقے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان میں ایران سے ملحقہ علاقے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض حصوں تک بھی ممکنہ اثرات پہنچ سکتے ہیں۔
رابرٹ پیپ کا یہ نقشہ ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات میں تابکاری کے پھیلاؤ کی مقدار یا اس کے ممکنہ وقت کی تفصیل شامل نہیں۔
اس لیے نقشے میں ظاہر کیے گئے خدشات کو ممکنہ صورتِ حال سے متعلق انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ کسی حقیقی حملے یا تابکاری کے پھیلاؤ کی تصدیق نہیں ہے۔

