اسرائیل کی سینٹرل الیکشن کمیٹی کے چیئرمین نے انتخابات کے باضابطہ نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کردیے۔
صدر ہرزوگ نے صدارتی محل میں منعقدہ تقریب کے دوران نتائج وصول کیے۔ یہ نتائج کمیٹی کے سربراہ جسٹس نوعم سولبرگ نے پیش کیے۔ صدر نے نتائج کی منظوری بھی دی۔
اس موقع پر ہرزوگ نے کہا کہ انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات پیدا کرنا جمہوریت کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔ اب وہ پارلیمنٹ کے کسی رکن کو حکومت بنانے کی ذمہ داری دینے کے لیے مشاورت کریں گے۔
صدر اسحاق ہرزوگ نے 27 اکتوبر کے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے بیانات کی مذمت کی۔ ان بیانات میں عرب برادری کے خلاف نسل پرستانہ اور توہین آمیز زبان استعمال کی گئی تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی کمیونٹی کو انتخابی تحقیقات کی آڑ میں نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق عرب برادری کے خلاف غیر مہذب اور نسل پرستانہ زبان قابل مذمت ہے۔
ہرزوگ نے کہا کہ اسرائیل میں کسی بھی کمیونٹی کے لیے ایسی زبان کی گنجائش نہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے داخلی سلامتی کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا۔
ان کے مطابق انہیں شین بیٹ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔
صدر نے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے الزامات کی تحقیقات پر بھی زور دیا۔ ان الزامات میں عرب اکثریتی علاقوں میں مبینہ دھاندلی شامل ہے۔ انتخابی نتائج میں بیرونی مداخلت کے دعووں کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ہرزوگ نے بتایا کہ انہوں نے شین بیٹ کے سربراہ ڈیوڈ زینی سے بات کی ہے۔ انہوں نے اٹارنی جنرل سے بھی رابطہ کیا۔ یہ گفتگو تحقیقات کے طریقہ کار پر دونوں کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کے تناظر میں ہوئی۔
صدر نے کہا کہ وہ دونوں عہدیداروں کا احترام کرتے ہیں۔

